找回密码
 立即注册
搜索
查看: 427|回复: 0

بیٹی کو گود لیتے وقت کونسی مشکلات پیش آئیں؟ سشمیتا سین کا انٹرویو وائرل

[复制链接]

2万

主题

0

回帖

6万

积分

论坛元老

积分
62886
发表于 2025-10-28 17:36:52 | 显示全部楼层 |阅读模式
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی بیٹیوں رینی اور علیشہ کو گود لینے کے دوران پیش آنے والی قانونی مشکلات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نے اس فیصلے میں ان کا بےحد ساتھ دیا۔

سشمیتا کا کہنا تھا کہ سن 2000 میں جب انہوں نے پہلی بچی کو گود لینا چاہتا تو اُس وقت کے قوانین غیر شادی شدہ خواتین کو بچوں کو گود لینے سے نہیں روکتے تھے، مگر سماجی تعصب اور قانونی پیچیدگیوں نے ان کیلئے یہ عمل نہایت مشکل بنا دیا تھا۔

اداکارہ نے بتایا کہ وہ 21 برس کی تھیں مگر وہ شادی کرنے کے بجائے ایک بیٹی کو گود لے کر ماں بننے کی خواہش رکھتی تھیں اور 24 سال کی عمر میں اپنی پہلی بیٹی رینی کو گود لینے کے لیے عدالت گئی تھیں۔

سشمیتا کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں خوف تھا کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو بچی جس کو وہ اپنا چکی ہیں ان سے واپس لے لی جائے گی۔ سشمیتا کے مطابق ان کے والد شوبیر سین نے بچی کو  گود لینے کے اس فیصلے میں بھرپور ساتھ دیا اور اپنی تمام جائیداد بھی ان کی بیٹی رینی کے نام کردی کیونکہ یہ قوانین کے مطابق شرط تھی کہ جائیداد کا نصف حصہ بچے کے نام کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عدالت کے جج نے ان کے والد سے کہا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو بچی گود لینے دیں گے تو کوئی اچھا لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا، جس پر والد نے جواب دیا کہ انہوں نے بیٹی کو صرف کسی کی بیوی بننے کے لیے پرورش نہیں کی تھی۔

یاد رہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد سشمیتا سین 2000 میں بھارت کی پہلی سنگل مدر بننے والی معروف شخصیت بن گئی تھیں جبکہ انہوں نے چند سالوں بعد ایک اور بچی علیشہ کو بھی گود لیا۔
您需要登录后才可以回帖 登录 | 立即注册

本版积分规则

Archiver|手机版|小黑屋|usdt交易

GMT+8, 2026-1-24 04:15 , Processed in 0.144658 second(s), 24 queries .

Powered by usdt cosino! X3.5

© 2001-2025 Bitcoin Casino

快速回复 返回顶部 返回列表